پاکستان میں سپر بگ نامی خطرناک ٹائیفائڈ وائرس پھیلنے لگا

ٹائیفائڈ کا خطرناک جرثومہ جسے “سپر بَگ” کہا جا رہا ہے، تشویش ناک تیزی سے پھیل رہا ہے. سپر بَگ اس جرثومے کو کہتے ہیں جس پر متعدد اینٹی بائیوٹکس اثر نہ کریں.
ٹائیفائڈ مہلک بیماری ہے. علاج سے بہتر پرہیز اور احتیاطی تدابیر ہیں.


کرنے کے کام:

.. ٹائیفائڈ کی ویکسین 2 سال سے بڑی عمر کے ہر فرد کو لگوائیں

.. بازار سے ہرگز کوئی ایسی شے نہ کھائیں جو مکمل طور پر پکی ہوئی نہ ہو، مثلاً فروٹ چاٹ، چھلے ہوئے پھل، دہی بڑے، سلاد وغیرہ

.. پانی ہمیشہ ابلا ہوا یا مستند کمپنی کا استعمال کریں. محلوں میں لگے فلٹرز قابل اعتماد نہیں. سب سے بہتر حل یہ ہے کہ اپنے گھروں میں “آر او” فلٹرز لگوائیں. شروع میں تقریباً 15 ہزار کا خرچہ ہے لیکن بعد کا لمبا سکون. سپر بگ کے علاج پر اس سے بھی زیادہ خرچہ آتا ہے

.. کھانے سے پہلے اور بیت الخلاء کے استعمال کے بعد اچھی طرح ہاتھ دھوئیں

.. پیپر کرنسی کی ایک نحوست جراثیم کا پھیلاؤ بھی ہے. لہٰذا نوٹ گننے کے بعد بھی ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں

.. ریسٹورنٹس میں کھاتے وقت برتن اور کٹلری کی صفائی کے بارے میں اطمینان کر لیں

.. صدقہ و خیرات کو معمول بنا لیں

.. ڈاکٹروں سے درخواست ہے کہ عام نزلہ زکام کھانسی وغیرہ میں ایزیتھرومائیسین اینٹی بائیوٹک استعمال نہ کریں. اسوقت یہ ٹائیفائڈ میں کام کر رہی ہے. خطرہ ہے کہ کہیں اسکے بے دریغ استعمال سے یہ بھی بیکار نہ ہو جائے.

(ڈاکٹر رضوان اسد خان)

اپنا تبصرہ بھیجیں